نئی دہلی ،8مارچ(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) سپریم کورٹ نے لوک سبھا انتخابات سے پہلے آسام میں کئی اقسام کے لوگوں کو ووٹ کے حق سے مبینہ طور پر محروم کرنے کے معاملے میں جمعہ کو الیکشن کمیشن کے سیکرٹری کو 12 مارچ کو پیش ہونے کی ہدایت دی۔ چیف جسٹس رنجن گوگوئی، جسٹس ایس عبد النذیر اور جسٹس سنجیو کھنہ کی بنچ نے اس درخواست پر ایک فروری کو نوٹس جاری کیا تھا۔لیکن اس کے باوجود کمیشن کی جانب سے کوئی پیش نہیں ہوا تھا۔اس پر عدالت نے کمیشن کے سیکرٹری کو انفرادی طور پر پیش ہونے کی ہدایت دی۔پٹیشن میں ایسے پانچ اقسام کے لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے جن کے نام ووٹر لسٹ میں نہیں ہیں۔پٹیشن کے مطابق ان اقسام میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جن کے نام قومی شہری رجسٹر کے مسودے میں تو ہیں لیکن ووٹر لسٹ میں نہیں ہیں۔ درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ ووٹ کے حق سے محروم کئے جا رہے لوگوں میں ایسے لوگ بھی شامل ہیں جن کے نام قومی شہری رجسٹر کے مسودے میں ہیں لیکن انہیں ووٹر لسٹ سے ہٹا دیا گیا ہے۔پٹیشن میں دعوی کیا گیا ہے کہ ان لوگوں نے 2014 میں ہوئے لوک سبھا انتخابات میں ووٹ دیا تھا۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ اس میں ایسے لوگ بھی ہیں جن کے نام شہری رجسٹر کے آخری مسودے میں شامل نہیں تھے لیکن انہوں نے بعد میں اپنے نام شامل کرانے کے لیے دعوی فارم بھرے ہیں۔ایسے لوگوں نے اس سے پہلے کے لوک سبھا انتخابات میں ووٹ دیا تھا اور اس وقت نام شامل ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔ اسی طرح ایک طبقہ وہ ہے جنہیں غیر ملکیوں کے ٹربیونل اور گوہاٹی ہائی کورٹ نے غیر ملکی قرار دے دیا ہے لیکن عدالت نے اس پر روک لگا دی ہے۔اسی طرح ایک اور زمرے میں وہ لوگ ہیں جنہیں غیر ملکی قراردینے کے ٹربیونل کے حکم کو عدالت عظمی نے مسترد کر دیا ہے لیکن ٹریبونل کے حکم کے تحت ان کے نام ووٹر لسٹ سے ہٹا دیئے گئے ہیں۔پٹیشن کے مطابق اسی طرح پانچویں زمرے میں ایسے شخص ہیں جن کے نام شہری رجسٹر کے مسودے میں شامل نہیں کئے گئے ہیں جبکہ ان کے خاندان کے دیگر ارکان کے نام رجسٹر فہرست میں ہیں۔ایسے لوگوں نے اپنے نام شامل کرانے کے لیے دعوی فارم داخل کر رکھے ہیں۔